اجنبی شہر کے اجنبی راستے، میری تنہائی پر مُسکراتے رہے میں بہت دیرتک یونہی چلتا رہا، تم بہت دیر تک یاد آتے رہے زہر مِلتا رہا، زہر پیتے رہے، روز مرتے ر…
Read moreتجھ سے ناراض نہیں زندگی، حیران ہوں میں تیرے معصوم سوالوں سے پریشاں ہوں میں جینے کے لیے سوچا ہی نہیں، درد سنبھالنے ہوں گے مسکرائیں تو مسکرانے کے قرض ا…
Read moreسنا ہے شیر کا جب پیٹ بھر جائے تو وہ حملہ نہیں کرتا سنا ہے جب کسی ندی کے پانی میں بئے کے گھونسلے کا گندمی سایہ لرزتا ہے تو ندی کی روپہلی مچھلیاں اس …
Read moreکبھی ہم بھی خوبصورت تھے کتابوں میں بسی خوشبو کی صورت سانس ساکن تھی! بہت سے ان کہے لفظوں سے تصویریں بناتے تھے پرندوں کے پروں پر نظم لکھ کر دور کی جھ…
Read moreکٹ تو گیا ھے ، کیسے کٹا یہ نہ پوچھیے یارو !! سفر حیات کا آسان تو نہ تھا تھیں جن کے دَم سے رونقیں شہروں میں جا بسے ورنہ ہمارا گاؤں یوں ویران تو نہ تھا…
Read moreہم تم ہوں گے بادل ہو گا رقص میں سارا جنگل ہو گا وصل کی شب اور اتنی کالی ان آنکھوں میں کاجل ہو گا کس نے کیا مہمیز ہوا کو شاید ان کا آنچل ہو گا پیار کی…
Read moreراحت اندوری کے بڑے صاحبزادے ستلج نے ان کا آخری کلام شیٸر کیا ہے۔ احساس ہے کہ موت قریب ہے لیکن غزل میں خوف تک نہیں آخری غزل نٸے سفر کا جو اعلان بھی ن…
Read moreپھر ساون رت کی پون چلی تم یاد آئے پھر پتوں کی پازیب بجی تم یاد آئے پھر کونجیں بولیں گھاس کے ہرے سمندر میں رت آئی پیلے پھولوں کی تم یاد آئے پھر کاگ…
Read moreروز بڑھتا ھوں جہاں سے آگے پھر وہیں لوٹ کے آ جاتا ھوں بار ہا توڑ چکا ھوں جن کو انھیں دیواروں سے ٹکراتا ھوں جسم سے روح تلک ریت ہی ریت نہ کہیں دھوپ، نہ…
Read moreپھر کوئی آیا دل زار نہیں کوئی نہیں راہرو ہو گا کہیں اور چلا جائے گا ڈھل چکی رات بکھرنے لگا تاروں کا غبار لڑکھڑانے لگے ایوانوں میں خوابیدہ چراغ سو گ…
Read moreپہنچے جو سرِ عرش تو نادار بہت تھے دُنیا کی محبت میں گرفتار بہت تھے گھر ڈوب گیا اور اُنہیں آواز نہیں دی حالانکہ مرے سلسلے اُس پار بہت تھے چھت پڑنے کا…
Read more" ابن انشاء‘‘ کا کلام ’’انشاء جی اٹھو اب کوچ کرو" جس کے لکھنے کے ایک ماہ بعد وہ وفات پا گئے تھے۔ اس کے بعد ’’قتیل شفائی‘‘ نے غزل لکھی &quo…
Read moreکسی اور کے خدا سے نہ غرض نہ واسطہ ہے ہے وہی خدا ہمارا جو حضور کا خدا ہے یہ جو بزمِ آب و گِل ہے یہ تمام کربلا ہے جہاں امن و آشتی ہے وہ دیارِ مصطفیٰ ہے…
Read moreاب کرب کے طوفاں سے گزرنا ہی پڑے گا سورج کو سمندر میں اترنا ہی پڑے گا فطرت کے تقاضے کبھی بدلے نہیں جاتے خوشبو ہے اگر وہ تو بکھرنا ہی پڑے گا پڑتی ہے تو…
Read moreہر صاحبِ یقیں کا ایمان بن گئے ہیں قولِ نبی دلیل قرآن بن گئے ہیں تعلیمِ مصطفےٰ نے ایسا شعور بخشا جو آدمی نہیں تھے انسان بن گئے ہیں آدم سے تابہ عیسیٰ، …
Read moreہوا کے واسطے اک کام چھوڑ آیا ہوں دیا جلا کے سر شام چھوڑ آیا ہوں کبھی نصیب ہو فرصت تو اس کو پڑھ لینا وہ ایک خط جو ترے نام چھوڑ آیا ہوں ہوائے دشت و بیا…
Read moreساتھ ہمارے دھوکا کیا ہے اور خوابوں کو ہمارے روندا گیا ہے کہ چھینی گئ ہے بینائی ہماری اور پھر آگ میں جھونکا گیا ہے لگا کر آگ چمن میں بدعنوانی کی ایندھ…
Read moreمانا کہ مشتِ خاک سے بڑھ کر نہیں ہوں میں لیکن ہوا کے رحم و کرم پر نہیں ہوں میں انسان ہوں، دھڑکتے ہوئے دل پہ ہاتھ رکھ یوں ڈوب کر نہ دیکھ سمندر نہ…
Read moreاُگا سبزہ دَر و دیوار پر آہستہ آہستہ ہوا خالی صداؤں سے نگر، آہستہ آہستہ گِھرا بادل خموشی سے خزاں آثار باغوں پر ہلے ٹھنڈی ہواؤں میں شجر آہستہ آہ…
Read moreصدا ہوں اپنے پیار کی جہاں سے بے نیاز ہوں کسی پہ جو نہ کھل سکے وہ زندگی کا راز ہوں صدا ہوں اپنے پیار کی رچے ہیں میرے زمزمے ہواؤں میں گھٹاؤں…
Read more
Find Us On