دائرہ : پھر وہیں لوٹ کے آ جاتا ھوں
روز بڑھتا ھوں جہاں سے آگے
پھر وہیں لوٹ کے آ جاتا ھوں
بار ہا توڑ چکا ھوں جن کو
انھیں دیواروں سے ٹکراتا ھوں
جسم سے روح تلک ریت ہی ریت
نہ کہیں دھوپ، نہ سایہ، نہ سراب
کتنے ارمان ہیں کس صحرا میں
کون رکھتا ھے مزاروں کا حساب
نبض بجھتی بھی بھڑکتی بھی ھے
دل کا معمول ھے گھبرانا بھی
رات اندھیرے نے اندھیرے سے کہا
ایک عادت ھے جیے جانا بھی
کیفی اعظمی
0 Comments