
اس کی آنکھوں میں اتر جانے کو جی چاہتا ہے شام ہوتی ہے تو گھر جانے کو جی چاہتا ہے کسی کم ظرف کو با ظرف اگر کہنا پڑے ایسے جینے سے تو مر جانے کو جی چاہتا…
Read moreدشمنوں نے جو دشمنی کی ہے دوستوں نے بھی کیا کمی کی ہے خامشی پر ہیں لوگ زیر عتاب اور ہم نے تو بات بھی کی ہے مطمئن ہے ضمیر تو اپنا بات ساری ضمیر ہی ک…
Read moreچلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلے نظر جھکا کے چلے جسم و جاں بچا کے چلے فیض کو کیا معلوم تھا کہ 75 سال گزرنے کے بعد…
Read moreآخر وہ میرے قد کی بھی حد سے گزر گیا کل شام میں تو اپنے ہی سائے سے ڈر گیا مٹھی میں بند کیا ہوا بچوں کے کھیل میں جگنو کے ساتھ اس کا اجالا بھی مر …
Read moreچراغِ زندگی ہو گا فروزاں، ہم نہیں ہوں گے چمن میں آئے گی فصلِ بہاراں، ہم نہیں ہوں گے جوانو ! اب تمھارے ہاتھ میں تقدیرِ عالَم ہے تمہی ہو گے فروغِ بزمِ…
Read moreانجمن ترقی اردو سو سال سے زیادہ قدیم ادارہ ہے۔ تقسیم کے بعد اس کے دو حصے ہوئے، ایک حصہ ہندوستان میں رہ گیا اور ایک حصے کو مولوی عبدالحق پاکستان لے آئ…
Read moreزندگی کے میلے میں خواہشوں کے ریلے میں تم سے کیا کہیں جاناں اس قدر جھمیلے میں وقت کی روانی ہے، بخت کی گرانی ہے سخت بے زمینی ہے، سخت لامکانی ہے ہجر کے…
Read more
Find Us On