Urdu

6/recent/ticker-posts

شام ہوتی ہے تو گھر جانے کو جی چاہتا ہے

اس کی آنکھوں میں اتر جانے کو جی چاہتا ہے
شام ہوتی ہے تو گھر جانے کو جی چاہتا ہے

کسی کم ظرف کو با ظرف اگر کہنا پڑے
ایسے جینے سے تو مر جانے کو جی چاہتا ہے

ایک اک بات میں سچائی ہے اس کی لیکن
اپنے وعدوں سے مکر جانے کو جی چاہتا ہے

قرض ٹوٹے ہوئے خوابوں کا ادا ہو جائے
ذات میں اپنی بکھر جانے کو جی چاہتا ہے

اپنی پلکوں پہ سجائے ہوئے یادوں کے دیے
اس کی نیندوں سے گزر جانے کو جی چاہتا ہے

ایک اجڑے ہوئے ویران کھنڈر میں آذرؔ
نا مناسب ہے مگر جانے کو جی چاہتا ہے

کفیل آزر

Visit Dar-us-Salam Publications
For Authentic Islamic books, Quran, Hadith, audio/mp3 CDs, DVDs, software, educational toys, clothes, gifts & more... all at low prices and great service.

Post a Comment

0 Comments