Urdu

6/recent/ticker-posts

"مرحوم زندگی کی حراست میں مر گیا"


آخر وہ میرے قد کی بھی حد سے گزر گیا​
کل شام میں تو اپنے ہی سائے سے ڈر گیا​
​
مٹھی میں بند کیا ہوا بچوں کے کھیل میں​
جگنو کے ساتھ اس کا اجالا بھی مر گیا​
​
کچھ ہی برس کے بعد تو اس سے ملا تھا میں​
دیکھا جو میرا عکس تو آئینہ ڈر گیا​
​
ایسا نہیں کہ غم نے بڑھا لی ہو اپنی عمر​
موسم خوشی کا وقت سے پہلے گزر گیا​
​
لکھنا مرے مزار کے کتبے پہ یہ حروف​
"مرحوم زندگی کی حراست میں مر گیا"

قتیل شفائی


Visit Dar-us-Salam.com Islamic Bookstore

Post a Comment

0 Comments