کٹ تو گیا ھے، کیسے کٹا یہ نہ پوچھیے
کٹ تو گیا ھے ، کیسے کٹا یہ نہ پوچھیے
یارو !! سفر حیات کا آسان تو نہ تھا
تھیں جن کے دَم سے رونقیں شہروں میں جا بسے
ورنہ ہمارا گاؤں یوں ویران تو نہ تھا
رسماً ہی آ کے پوچھتا فاروق حالِ دل
کچھ اِس میں اُس کی ذات کا نقصان تو نہ تھا
فاروق روکھڑی
0 Comments