آٹھ دسمبر 1925 کو امبالہ میں پیدا ہونے والے سید ناصر کاظمی ایک شاعر کا دل لے کر اس دنیا میں آئے تھے، ان کے تخلیقی سفرکی ابتدا زمانہ طالب علمی کے دورا…
Read moreمانا کہ مشتِ خاک سے بڑھ کر نہیں ہوں میں لیکن ہوا کے رحم و کرم پر نہیں ہوں میں انسان ہوں، دھڑکتے ہوئے دل پہ ہاتھ رکھ یوں ڈوب کر نہ دیکھ سمندر نہ…
Read moreاُگا سبزہ دَر و دیوار پر آہستہ آہستہ ہوا خالی صداؤں سے نگر، آہستہ آہستہ گِھرا بادل خموشی سے خزاں آثار باغوں پر ہلے ٹھنڈی ہواؤں میں شجر آہستہ آہ…
Read moreصدا ہوں اپنے پیار کی جہاں سے بے نیاز ہوں کسی پہ جو نہ کھل سکے وہ زندگی کا راز ہوں صدا ہوں اپنے پیار کی رچے ہیں میرے زمزمے ہواؤں میں گھٹاؤں…
Read moreجس نے مرے دل کو درد دیا اس شکل کو میں نے بھلایا نہیں اک رات کسی برکھا رت کی کبھی دل سے ہمارے مٹ نہ سکی بادل میں جو چاہ کا پھول کھلا وہ دھوپ میں …
Read more
Find Us On