اجنبی شہر کے اجنبی راستے، میری تنہائی پر مُسکراتے رہے میں بہت دیرتک یونہی چلتا رہا، تم بہت دیر تک یاد آتے رہے زہر مِلتا رہا، زہر پیتے رہے، روز مرتے ر…
Read moreتجھ سے ناراض نہیں زندگی، حیران ہوں میں تیرے معصوم سوالوں سے پریشاں ہوں میں جینے کے لیے سوچا ہی نہیں، درد سنبھالنے ہوں گے مسکرائیں تو مسکرانے کے قرض ا…
Read moreسنا ہے شیر کا جب پیٹ بھر جائے تو وہ حملہ نہیں کرتا سنا ہے جب کسی ندی کے پانی میں بئے کے گھونسلے کا گندمی سایہ لرزتا ہے تو ندی کی روپہلی مچھلیاں اس …
Read moreکبھی ہم بھی خوبصورت تھے کتابوں میں بسی خوشبو کی صورت سانس ساکن تھی! بہت سے ان کہے لفظوں سے تصویریں بناتے تھے پرندوں کے پروں پر نظم لکھ کر دور کی جھ…
Read moreکٹ تو گیا ھے ، کیسے کٹا یہ نہ پوچھیے یارو !! سفر حیات کا آسان تو نہ تھا تھیں جن کے دَم سے رونقیں شہروں میں جا بسے ورنہ ہمارا گاؤں یوں ویران تو نہ تھا…
Read more
Find Us On