Urdu

6/recent/ticker-posts

کچھ دل سے کسی نے کہہ دیا پھر


کچھ دل سے کسی نے کہہ دیا پھر
وحشت کا چلے گا سِلسلہ پھر

پھولوں پہ دھنک کی بارشیں ہیں
خوشبو سے ہُوا ہے رابطہ پھر

بے نام رفاقتوں کا موسم
زخموں کے چمن کھِلا گیا پھر

خوابوں سے ڈری ہوئی تھیں آنکھیں
ڈرڈر کے کیا ہے حوصلہ پھر

آنکھیں تھیں اُداس مُسکرا دیں
پیاسا تھا بدن چھلک پڑا پھر

پتھراؤ سے کب تلک بچیں گے
پھر ٹوٹ گیا جو آئینہ پھر

پھر شہر کے سارے داستاں گو
دُہرائیں گے ایک واقعہ پھر

افتخارعارف

Post a Comment

0 Comments