کچھ دل سے کسی نے کہہ دیا پھر
کچھ دل سے کسی نے کہہ دیا پھر
وحشت کا چلے گا سِلسلہ پھر
پھولوں پہ دھنک کی بارشیں ہیں
خوشبو سے ہُوا ہے رابطہ پھر
بے نام رفاقتوں کا موسم
زخموں کے چمن کھِلا گیا پھر
خوابوں سے ڈری ہوئی تھیں آنکھیں
ڈرڈر کے کیا ہے حوصلہ پھر
آنکھیں تھیں اُداس مُسکرا دیں
پیاسا تھا بدن چھلک پڑا پھر
پتھراؤ سے کب تلک بچیں گے
پھر ٹوٹ گیا جو آئینہ پھر
پھر شہر کے سارے داستاں گو
دُہرائیں گے ایک واقعہ پھر
افتخارعارف
0 Comments