راحت اندوری کے بڑے صاحبزادے ستلج نے ان کا آخری کلام شیٸر کیا ہے۔ احساس ہے کہ موت قریب ہے لیکن غزل میں خوف تک نہیں آخری غزل نٸے سفر کا جو اعلان بھی ن…
Read moreمرے جذبے کی بڑی قدر ہے لوگوں میں مگر میرے جذبے کو مرے ساتھ ہی مر جانا ہے ہندوستان کے معروف شاعر راحت اندوری کے وصال کی خبر مجھے راویش کمار سے کچھ یوں…
Read moreتقسیم ہند اور قیام پاکستان کے بعد تقریباً پچاس برس اُردو زبان پر بہت بھاری گزرے ہیں کہ اس کو برصغیر کی مشترکہ زبان کے بجائے صرف مسلمانوں اور پا…
Read moreسنہ 1950 میں انڈیا کے شہر اندور میں پیدا ہونے والے راحت اندوری کو ان کی شاعری کے سبب اس نام سے جانا جاتا تھا۔ ان کا اصل نام راحت قریشی تھا۔ اسلام…
Read more
Find Us On