آزادی کی منزل
چادریں ہجرت کی اوڑھے ہوئے
اور ساماں سبھی چھوڑے ہوئے
مال وزر سے منہ تھے موڑے ہوئے
سر پہ لیے آزادی کی ردا
تھا اس کو ہی سب نے سنبھالا ہوا
ہندو نیزوں سے اس کو بچاتے چلے
سکھ کی کرپان سے بھی چھپاتے چلے
پھر بھی کٹتی گئیں گردنیں
ہم مگر نہ رکے چلتے رہے
قدم سے قدم تھے ملائے ہوئے
آسماں پر نظریں جمائے ہوئے
رب سے تھے مانگتے بس اک دعا
اے خدا خیر سے منزل پہ پہنچا دیجیے
اور آزادی کی منزل دکھا دیجیے
اس منزل کا پہلا قدم، پہلا نشاں
جس نے ہم کو دکھایا نیا اک جہاں
آج کا دن ہے اور یہ دن ہے بڑا
سمیرا غزل
بشکریہ روزنامہ جسارت
0 Comments