سب ٹھاٹ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارہ
مغرور نہ ہو تلواروں پر، مت پھول بھروسے ڈھالوں کے
سب پنا توڑ کے بھاگیں گے ، منہ دیکھ اجل کے بھالوں کے
کیا ڈبے ہیروں موتی کے ، کیا ڈھیر خزانے مالوں کے
کیا بقچے تاش مشجر کے ، کیا تختے شال دو شالوں کے
کیا سخت مکاں بنواتا ہے ، کھم تیرے بدن کا ہے پولا
تو اونچے کوٹ اٹھاتا ہے ، واں گور گڑھے نے منہ کھولا
کیا رینی، خندق، رند، بڑے، کیا برج ، کنگورا، انمولا
گڑھ ، کوٹ ، رہکلہ ، توپ ، قلعہ ، کیا شیشہ ، دارو اور گولا
سب ٹھاٹ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارہ
نظیر اکبرآبادی
0 Comments